Saturday, September 5, 2020

#خواہشات کا بنڈل BUNDLE OF WISHS #

 

خواہشات کا بنڈل




انسانی خمیر میں گندھے ہوئے جذبات خواہشات کو جنم دیتےہیں اور انسان انہی خواہشات کی تکمیل کےلیے دنیا کےاس خرابے میں بھاگتا رہتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان خواہشات کے ڈھیر میں سے پہلے کونسی خواہش پوری ہو اس کی بارہا درجہ بندی کرتاہے بل کہ یوں کہا جائے کہ ساری عمر اسی تگ و دو میں گذر جاتی ہے تو سچ مانیے جھوٹ نہیں ہوگا ۔  میرے ایک دوست شہزاد اسلم کہا کرتے ہیں کہ  جب تک آپ نے ان میں سے کسی ایک کو پہلے نمبر پر نہیں رکھا آپ کے مانگنے میں شدت اوریقین نہیں آ سکتا۔

انسانی  بچپن میں اسکے کھلونے اور ہوتےہیں اور اس وقت یہ صرف انہی کے پیچھے بھاگتاہےاور اس کی بڑی سے بڑی خواہش بھی کسی خوبصورت کھلونے کے پانے  پر ہی منتج ہوتی ہے۔ اسکول کا وقت شروع ہوتاہے تو اب اور طرح کے خواب دیکھے جاتےہیں ۔ان دنوں ایک سائیکل ،بھاری بھر کم جیب خرچ وغیرہ وغیرہ ۔جوانی کی تو کیا بات ہے اس میں ہر جوان کی ہر معاملے میں الگ الگ پسند ناپسند ہوتی ہے ۔ نوکری کرنی ہے تو کس محکمہ میں ،کاروبار کرنا ہے تو کونسا ، شادی کب ،کہاں کیسے اور کس سے سے لیکر ایک لمبی فہرست مرتب ہو سکتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ خوابناک عمر بڑے خواب دکھاتی ہے ۔ کچھ لوگ یقیناً ان کی تعبیر بھی پالیتے ہونگے مگر شاذ شاذ  ، معاذ اللہ اگر یہ نا شکری نہ ہو تو اکثر تو جیسے پہلے عرض کیاہے کہ نہ حاصل نہ وصول صرف درجہ بندی میں اگلے جہان پہنچ جاتےہیں۔ 

یا  اللہ  شادی                  

 


اکثر لوگوں کے ساتھ تو یہی ہوتاہے کہ وہ عمر بھر سینکڑوں سپنوں کو اعصاب  پر سوار کیے رہتےہیں۔ان میں اپنی پسند کی شادی ، روپیہ پیسہ ،اچھی نوکری یا کاروبار ، بڑا گھر ،    عیاشی ،  بچے ،صحت تندرستی ، بچوں کے رشتے ،جنت ، خاتمہ با لخیر ، بچوں کی تعلیم ،ان کی نوکریاں اور پھر اسی طرح آگے ہی آگے کا م چلتا رہتاہے  ۔اب ان میں سے کب اور کسے پہلےنمبر پر رکھیں سمجھ سے باہر۔؟حضرت غالب کے الفاظ میں

؎                              ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے

                               بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

مولا  گھر اورگاڑی دے دے 






 

گھر میں ہے تو بچوں کی تعلیم ،نوکری ،شادی ، مسجد میں گیا تو اپنی آخرت یاد آگئی ، ذرا سی طبیعت خراب  ہوئی تو تمام دعائیں اس کی بحالی کے لیے صرف ہونے لگ پڑتی ہیں ۔ کہیں جانا پڑا تو گاڑی کی ضرورت نے گلا آن دبوچا   اب اس کےلیے ہاتھ اٹھا لیے غرض پل میں تولہ پل میں ماشہ ۔اسی دوران اللہ تیرا شکر ہے کے ساتھ ساتھ ”ساری دنیا کو نوازا ہے ہمیں بھی کچھ دے دیتا تو تیرا کیا جانا تھا ،اللہ میاں اے اللہ میاں مجھے کیوں کچھ بھی نہیں مل رہا “ جیسے خیالات کا تانتا بندھا رہتاہے گویا ہر ضرورت ایک خواہش کا روپ دھار کر سامنے آکھڑی ہوتی ہے۔

مالک صرف صحت عطا کر

 

 نصرت صدیقی کے بقول

کس ضرورت کو دباؤں کسے پوراکرلو ں

اپنی تنخواہ   کئی   بار   گنی  ہے   میں      نے

ان میں سے ایک پوری ہوئی تو ساتھ دس اور بڑھ گئیں  اور پھر وہ پریشانی ،تو سوال پیدا ہوتاہے کہ کون سی چیز کس وقت مانگنی چاہیے ۔؟

سوال تو  اچھا بھی ہے اور اہم بھی  کیونکہ سبھی کے ذہن میں پیدا ہوتا ہوگا اور ہوتا  بھی رہے گا ۔ آپ کسی سے مشورہ کیجیے تو وہ اپنی سوچ اور فکر کےمطابق جواب دے گا ۔ سوچ اور فکر سے مراد کہ وہ آج کل کس جذبے کے زیر ِ اثر ہے ۔حیران نہ ہوں جی  ہاں جیسے ہماری خواہشات گھر میں اور مسجد میں اور اور بیماری میں اور ہوتی ہیں اس طرح انسان ہر عمر میں مختلف جذبات کے زیر ِ اثر رہتاہے اور وہ اسی کے تابع اپنے فیصلےکرتاہے۔ مثلاًاگردنیا داری غالب ہے تو وہ پیسے کو سب کچھ سمجھتاہے کہ اگر پیسہ ہے تو ہر چیز خریدی جاسکتی ہے۔ اگر مذہبی لگاؤ بڑھ گیاہے تو رات دن آخرت کی فکر ہوگی ،گناہ ثواب کی گنتی چلتی رہے گی اسی طرح سب کی اپنی اپنی رائے ہوگی ۔ لیکن میں آج آپ کو ایک ایسا نسخہ بتانے لگاہوں کہ آپ کو اپنی خواہشات کی درجہ بندی نہیں کرنا پڑے گی اور آپ عمر کے جس حصہ میں بھی ہیں یہ نسخہ آپ کے لیے اکیسر ہے۔ 

یک لفظی نسخہ

جی میں کون اور کہاں کا نسخہ سچی بات یہ ہے کہ ایک صوفی کی بتائی ہوئی ایک سطر ہے جب سے سنی ہے اس وقت سے اس بھنور سے باہر نکل آئے ہیں ۔ لیجیے آپ بھی سن لیجیے امیدہے آپ کی مشکلات بھی حل ہوجائیں گی ۔ وہ کہا کرتےہیں کہ اول ،انسان کو سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی سے عطا ہوتاہےاِس کی اپنی مرضی سے نہیں  تو  سب سے بہتر یہ ہے کہ یہ اپنی مرضی کو اپنے رب کی مرضی میں شامل کرلے اور خوش و خرم زندگی کےمزے لے ۔

دوم اگر یہ اس کے علاوہ مانگنا ہی چاہتاہےتو صرف اس کا ”فضل “ مانگے ۔ وہ کہتےہیں  کہ ”فضل “ ایک مکمل پیکج ہے اس میں زندگی و آخرت کی ہر آسائش اور سہولت موجودہے ۔ اس کی مثال وہ ایک روپے کےنوٹ سےدیا کرتےہیں ،کہتےہیں بچہ کبھی چونّی یعنی چار آنے  اورکبھی اٹھنّی یعنی آٹھ آنے  مانگتاہے لیکن ”روپیہ“ نہیں مانگتا ۔اس کی تفصیل یوں بتاتےہیں کہ اٹھنیاں ،چوّنیاں انسان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات ہیں جو مانگنے میں لگا رہتا ہےمگر روپیہ ،اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے تعبیر کرتے ہیں، نہیں مانگتا جس میں اٹھنّیا ں چونّیاں سب موجود ہیں ۔ ان کا یہ فرمایا ہوا ہی نہیں آزمایا ہوا بھی ہے ۔

لیں آج سے  آپ بھی ”روپیہ “ یعنی مالک کا فضل مانگا کریں  زندگی کی سب اٹھنّیاں اور چونّیاں اس میں شامل ہیں آپ کو مذید کچھ مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی  ۔”فضل “ ایک لفظ نہیں  ہے  یقین کیجیے اس   کا دائرہ دو جہانوں پر محیط ہے۔     

#خواہشات کا بنڈل BUNDLE OF WISHS #

  خواہشات کا بنڈل انسانی خمیر میں گندھے ہوئے جذبات خواہشات کو جنم دیتےہیں اور انسان انہی خواہشات کی تکمیل کےلیے دنیا کےاس خرابے میں بھاگتا...