Tuesday, August 25, 2020

اسماعیل سپ اور مسجد کا چندہ

 کچھ عرصہ قبل گاؤں میں  ایک قتل ہوگیا تھا

بالے کی دکان  سب لوگوں کا مکمل سوشل میڈیا ہے ۔ یہاں ہر طرح کی خبر اور گپ شپ  میسر ہے ۔ گاؤں میں کو ئی  میلہ ہے تو اس میں گانے والے ، نقلیے ،ڈھول والے اور میلے میں دور دراز سے شرکت کرنے والوں کا پہلا ٹھکانہ بھی یہی دکان ۔منھ ہاتھ نلکے پر دھویا چائے شائے  پی اور اگلی منزل کے لیے  روانہ ۔  گاؤں کے سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہی نہیں بل کہ اچھے تعلقات ہیں ۔  گلی میں لڑکیاں لڑکے اکٹھے گڈی گڈے کی شادی میں شریک ہیں  ۔چودہ پندرہ سال سے بڑے  لڑکے  شام کو واحد پرائمری سکول کےگراؤنڈ میں کھیلتےہیں ۔  گاؤں کا کوئی بھی بڑا کسی بھی بچے کو نہ صرف ڈانٹنے بل کہ ایک دوچپتیں لگانے کے پورے حقوق کا حامل ہے ۔ گاؤں میں کسی کے پاس کار نہیں ہے ۔ سائیکل ہی سب سے  محبوب سواری  ہےمگر یہ بھی سب کے پاس نہیں ہے شہر جانے کے لیے تانگے کی سہولت بھی موجود ہے ۔

                                                                      چند سال پہلے یہاں ایک جھگڑا ہو گیا تھا اور اس میں ایک قتل ہوگیا تھا ۔قاتل گرفتار ہوگئے اور ان کا خاندان یہاں سے کوچ کر گیا۔ اس واقعے کو کئی سال گذر گئے ہیں مگر آج بھی اس کا ذکر بڑے کرب اور دکھ کے ساتھ ہوتاہے ۔ بات کرنے والا خود حیرانی کی تصویر بنا بات کر رہا ہوتاہے کہ جیسے یہاں انسان نہیں فرشتے بستے ہوں کہ وہ کوئی ایساقدم اٹھا ہی نہیں سکتے تھے تو یہ کیسے ہوگیا ۔ ایک جمعہ کو مولوی صاحب نے اپنے بیان میں فرمایا کہ بری بات کا ذکر بار بار نہیں کرتے تو  اب  لوگ اس کا ذکر کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں ۔

مولوی صاحب بھی کمال ہیں سارا دن بڑھئی کا کام کرتے ہیں اور نماز کے وقت امامت کرواتے ہیں ۔فقط پرائمری پاس ،کسی مدرسے سے باقاعدہ دینی علم حاصل نہیں کیا ۔ گھر میں موجود عمومی کتب سے جو میسر ہو جمعہ کے خطبے میں سادہ انداز میں بیان کردیتے ہیں ۔ کسی تفرقہ بندی کا ذکر نہیں کسی کے خلاف تقریر نہیں ۔ دینی مسائل پر بیان ہوتا ہے۔ کوئی تنخواہ نہیں لگی ہوئی ۔ مسجد کے صحن میں پڑی نوبت ( یک طرفہ ڈھول ) جو ضروری اعلان اور ماہِ رمضان میں سحری افطاری کے وقت کی نشان دہی کے لیے استعمال ہوتی ہے کا چمڑاپھٹ گیا ہے مولوی صاحب جیب سے لے آئے ہیں کسی کو نہیں بتایا کتنے کا آیا ہے۔  

 

گاؤں کا  ہر گھر ان کا  اپنا گھر ہے ۔ ہر شخص ان کا معترف ہےاور سب ان کی امامت میں نماز پڑھتےہیں۔

پرائمری سکول  تو یہاں کے ہیڈ ماسٹر لعل محمد صاحب کا نام ہے ۔ وہ  اکیلے پورا سکول ہیں ۔ ہر بچے اور بڑے کی زبان پر لعل صاحب ہے ۔ لعل محمد صاحب  جے ۔وی (Junior Vernaculars  ) ماسٹرہیں ۔ پڑھانے کا انداز کمال ، سختی انتہائی ، پیار حد سے زیادہ کسی کو ٹیوشن کا علم نہیں پانچویں کا بورڈ کا امتحان آگیاہے تو پانچویں جماعت کو چھٹی کے بعد گھر سے کھانا کھا کر دوبارہ آنا ہے اور شام گئے تک پڑھناہے ۔ سکول میں صرف ایک کرسی ہے باقی اساتذہ شاگردوں کی لائی ہوئی چارپائیوں پر بیٹھ کر پڑھا رہے ہیں ۔ حنیف صاحب  تہبند باندھے پڑھانے کے ساتھ  حقہ بھی پی رہے ہیں ۔ بچے گھر سے  لائی ہوئی چینی والی بوریاں بچھائے اپنےاپنے بستے اور تختیاں سامنے رکھے  بیٹھے ہیں کچھ پڑھ رہے ہیں اور کچھ شرارتوں میں مصروف ۔سب نے سیاہ رنگ کے ملیشا کی شلوار قمیض پہنی ہوئی ہے اور ساتھ اسی کپڑے کا  سلا بستہ۔ کچھ بستے جدید ہیں  کہ ان کو ایک جیب لگی ہوئی ہے۔ 

 

 










گاؤں کے ہر گھر میں مرغیاں ، بکریاں اور بھینسیں حسب ِ توفیق موجود ہیں ۔ ابھی تک کسی گھر میں لیٹرین نہیں بنی بل کہ کسی کو اس کا زیادہ علم ہی نہیں ہے۔  ایک دو سال سے  صرف چند بچوں کو عید پر پینٹ شرٹ پہنے دیکھا گیاہے۔   رات  ہو یا دن ،صبح ہو یا شام سب  لوگ پر سکون نظر آتے ہیں حالانکہ محنت مزدوری کرتے ہیں کسی کے پاس دولت کے انبار نہیں ہیں مگر اپنے کام سے کام ،ہنس مکھ چہرے اور روز بار بار ملنے کے باوجود ایک دوسرے کو مل کر ایک دم خوش جیسے بڑی دیر بعد دیکھا ہو۔ اپنی باتیں گھر کی ،بچوں کی اور کئی مشورے  کھڑے کھڑے ہی کر لیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ دور پار سے آنے والے ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی یہاں کے بہت سے لوگوں کو جانتےہیں ۔ہمسائے تو خصوصاًملنے آتے ہیں ۔ مہمان بھی آتے ہیں گھر والوں کے ساتھ ہمسائیوں کا حال چال بھی دریافت کرتے ہیں۔   یوں معلوم ہوتاہے یہ پورا گاؤں ایک خاندان ہے۔

نوے کی دہائی

بالے کی دکان اڈے کا مرکز ہے اس لیے گذرنے والی بسیں بھی اسی دکان کے سامنے رکتی ہیں ۔ٹیکنیکل ہائی سکول ،مسلم ہائی سکول اور اواگت ہائی سکول میں داخل ہونے والے بچے یہیں سے سوار ہوتے اور اترتے ہیں ۔ اب بالے نے نوائے وقت اور جنگ اخبار بھی لگوا لیے ہیں جس سے خبر وں کی  تعداد اورترسیل بڑھ گئی ہے ۔ اخبارکے چاہنے والوں نے دکان کی آمدنی بھی بڑھا دی ہے ۔ اب سارا دن یہاں پہلے کی نسبت  رش نظرآتا ہے  ۔ اب ملیشا پہنے بچوں کے ساتھ کئی خاکی پتلون اور سفید شرٹ میں بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ٹیکنیکل ہائی سکول کے طلبہ ہیں جن کے والدین اور یہ وہاں داخلہ ملنے پر فخر محسوس کرتے ہیں کیوں کہ وہاں چھٹی جماعت سے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جاتا ہے ۔ گاؤں میں دکانیں بڑھ رہی ہیں  اب بالے  کے سامنے ماسٹر طالب اور ان کے بھائی ماسٹر انور نے کریانے کی نسبتاً بڑی دکان بنا لی ہے ساتھ ہی بابے ڈوگر کی کریانے دکان ہے۔ایک کھانے کا ہوٹل بھی بن گیاہے ۔  بابا خوشیا اعوان بیٹری والا ٹیلی ویژن لے آیا ہے اور اب کرکٹ نے اس جگہ پاؤں رکھ لیاہے ۔ شہر سے بیٹ وغیرہ لائے گئے ہیں ۔ چھوٹوں کے ساتھ بڑے بھی اس نئے کھیل کو دیکھنے جاتے ہیں ۔ باہر سے آنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔ اب تو یہاں نزدیک گاؤں کے کئی لوگوں نے دکانیں بنانا شروع کردی ہیں ۔ مسجد میں بیٹری لگا کر ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگادیا گیا ہے ۔ مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام ہے ۔مستری اسحاق( یہاں کی اکلوتی چکی کے مالک ) کی نمازیوں اورمعماروں سے مشاورت جاری ہے ۔ وہ تعمیراتی کام کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔گاؤں کے لوگوں کو مسجد کی تعمیر کےلیے درکار رقم کا بندوبست کرنا مشکل ہورہا ہےکیونکہ سب محنت مزدوری کرنے والے  لوگ ہیں کوئی بھی صاحب ِ حیثیت نہیں کہ اتنی رقم دے سکے۔   کسی نے مشورہ دیاہے کہ اب لاؤڈ سپیکر تو ہے ہی تو کیوں نہ اس کے ذریعے چندہ اکٹھا کیاجائے ۔  اب  ہر جمعرات کو چندہ اکٹھا کرنے پر اتفاق ہوگیاہےاور ہر جمعرات کو صبح شام چندہ  اکٹھا کرنے کی غرض سےاسماعیل نامی شخص کو معمور کیا گیاہے۔

 

لائل پور جڑانوالہ روڈ پر قدرے ٹریفک بڑھ رہی ہے اور بسوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہےاس بات کو مدِ نظر رکھتےہوئے مسجد والا سپیکر اڈے پر لگا دیا گیا ہے ۔ پہلےتو صرف گاؤں والوں سےچندہ مانگا جاتا تھا مگر اب آنے جانے والی بسوں کے مسافروں سے بھی چندہ دینےکی اپیل کی جاتی ہے۔ اسماعیل بڑی مستعدی سے اپنی ڈیو ٹی سر انجام دے رہا ہے۔ اور تنخواہ لے رہا ہے۔ 

انیس سو چھیاسی کی ایک صبح اس گاؤں والوں کےلیے خوش قسمتی کا سورج لے کر طوع ہوئی ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اڈے پر وقفے وقفے پر بجلی کے کھمبے پڑے ہیں ۔ اس سے پہلے سنٹرل جیل کی بتیاں دیکھ کر امید لگتی کہ یہ نزدیک تر ہے لہذا یہیں سے بجلی لانے کا بندوبست ہو سکتاہے ۔ بجلی کیا لگی دنیا ہی روشن ہوگئی ۔ نیشنل بنک کی برانچ بھی کھلنے لگی ہے ۔ سرکار نے ایک کھمبالگا کر ایک ٹیلی فون لگا دیاہے پورے گاؤں کے پاس ایک ٹیلی فون نے ہر گھر کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔ اپنے اپنے رشتہ داروں کو نمبر   04125974 بھجوایا جارہاہے ۔ جب کسی کا فون آتاہے تو سپیکر میں اعلان کیا جاتاہے کہ فلاں کا فون ہے آ کر سن لے اس سے دو روپے بھی لیے جاتے ہیں جو بعد میں بڑھ کر پانچ ہوگئے ۔ 

دودھ سے کریم الگ کرنے والی دو تین ڈیریاں بھی لگ گئیں ہیں ۔چاچے بشیرگجر کی ڈیری پرکریم نکوانے اور کریم لینے والوں کا رش پڑا رہتاہے ۔

بالے کے ملازم بڑھ رہے ہیں ۔ سبھو جلیبیاں والے کابڑا بیٹا ذلفی بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگ پڑا ہے۔ کپڑا بننے والی کچھ فیکٹریوں کا اضافہ ہوگیا ہے کچھ اور لگ رہی ہیں ۔ روزی روٹی کمانے کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں ۔ ملک ولی محمد جو کسی انشورنس کمپنی میں ملازم ہو گیا ہے  نے ایک ویسپا سکوٹر بھی لے لیا ہے ۔ کئی دنوں تک سب اسے مبارک باد دینے جاتے رہے ہیں۔ غرض دوسری نسل پراون چڑھ چکی ہے جس سے گھروں میں آمدنی کے ذرائع بڑھنے سے اور بجلی کی آمد نے آسانیاں پیدا کرنا شروع کردی ہیں مگر اب پہلے کی نسبت سب تھوڑے مصروف ہوتے جارہے ہیں۔ بالے کی دکان پر رش زیادہ ہے مگر آئی چلائی ہے ۔ جاتے جاتے ایک دوسرے سے دعا سلام ہورہی ہے۔ بھائی میں لیٹ ہورہا ہوں فیکٹری کاگیٹ بند ہو جاتاہےپھر ملتے ہیں ۔ کجا گھنٹوں باتیں ہی باتیں اور خوش و خرم بھی ۔ 

بیسویں صدی کا آخری عشرہ 

ان دس سالوں نے پورے علاقے کی ہیت کو بدلنے میں بڑا کردار ادا کیاہے۔ قومی و صوبائی انتخابات نے بہت سی  نئی چیزوں کو متعارف کروایا ہے۔ ان کی وجہ سے برادری ازم کا بھوت بھی نظر آنے لگ پڑا ہے۔ کون کس پارٹی کا سپورٹر ہے۔ لوگوں میں ایک تقسیم نظر آنے لگ پڑی ہے۔ 

ترقی کا کام بھی جاری ہے۔ ٹیلی فون ایکسچینج لگ گئی ہے۔ 


Thursday, August 20, 2020

بالا چاء والا

  

بالا چاء والا

ساٹھ کی دہائی میں سیلاب کاپانی جڑانوالہ کے  کئی نواحی دیہاتوں تک آ جاتا ہے جن میں سے ایک سیم زدہ گاؤں کے لوگ  ،جو پہلے ہندوستان سے اور اب اس گاؤں سے ،اپنا سامان اٹھا کر لائل پور  (اب  فیصل آباد) سے  تقریباً دس میل ( پندرہ کلو میڑ ) کے فاصلے پر سرکاری  نا قا بل ِ کاشت زمین پر بس جاتے ہیں ۔  یہاں سے ایک ایک رویہ  سڑک گذرتی ہے جولائل پور کو اس کی تحصیل جڑانوالہ سے ملاتی ہے  ۔ دوسری وہ جرنیلی کچی سڑک  ہے جو افغانستان اور دیگر ممالک سے آنے والے حملہ آور  لاہور اور دہلی پر  قبضہ کرنے کے استعمال کیا کرتے تھے ۔ یہ کچی سڑک ساہی وال کی جانب  جاتی اور پختہ سڑک کو یہاں سے  کراس کرتی ہوئی گذرتی ہے  ۔بھگت سنگھ کا گاؤں (بنگے )یہاں سے پانچ میل دور ہے  ۔

 اس نئی آبادی سے   چار پانچ  ایکڑ دور سو ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل  ایک اور  آبادی ہے جو پہلے سے ہے ۔ اس آبادی میں  وہ لوگ رہتے  ہیں جنھوں نے ساندل بار ( دریائے راوی اور چناب کا درمیانی علاقہ ) کی زمینوں کوقابل ِ کاشت بنایا اور اب یہ انہی الاٹ شدہ زمینوں پر کھیتی باڑی  کرتے ہیں ۔   یہ  لوگ ہجرت کرکے آنے  والوں کو ”مہاجر ، پناہی اور پناہ گیر“ کہتے ہیں جبکہ  مہاجر انھیں ”جانگلی“ یعنی جنگلی کے نام سے پکارتے ہیں کیوں کہ ان کی پسندیدہ خوراک  صبح کو چاٹی کی کھٹی لسی معہ مکھن ،دوپہر کو  تنور کی موٹی روٹی  دیسی گھی سے چپڑی ہوئی   جو سرخ مرچ ڈلی کھٹی لسی    کے ساتھ کھاتے ہیں ۔ رات کو صرف دودھ  پیتے ہیں  ۔ کبھی کبھی گڑ والےچاول اور  گوشت تب جب کوئی تقریب ہو یا اگر کوئی بچھڑا وغیرہ  حلال ہوجائے ۔ سبزی ،ساگ پات اور دالوں سے مکمل پرہیز کی صورت ہے  ۔ ہنڈیاچولہے پر چڑھانے کا رواج ہی نہیں تھا۔

اسی کی دہائی

اسی کی دہائی میں یہاں  کی آبادی پانچ سے چھ سو نفوس تک جاپہنچی ہے ۔ کم و بیش بیس پچیس دکانیں بن چکی ہیں۔ ساتھ والی آبادی کے لوگ اب سبزیاں اور کچھ دیگر اقسام کے کھانے مثلاً پلاؤ ، ابلےچاول اور  زردہ وغیرہ کھانے لگ پڑے ہیں ۔  یہ اسی وقت کا منظر ہے ۔ فجر کی اذان میں ابھی کچھ وقت باقی ہے ۔  شدید سردی کی وجہ سے لوگ لحافوں میں  دبکے گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔ اس وقت  اڈے پر موجود  خورد و نوش اور دیگر مختلف دکانوں میں سے صرف دو  دکانیں تھوڑی دیر قبل  کھلی ہیں جن میں ایک نہانے کا گرم حمام ہے ۔ اس حمام کا مالک فیض اب اپنے لوکل گیزر میں لکڑیاں جلا کر پانی گرم کررہا ہے اور ساتھ ساتھ آگ تاپ رہا ہے کیوں کہ اس نے پانی والی ٹینکی  ن آتے ہی   ہاتھ والے نلکے سے بھر لی تھی ۔ اسے معلوم ہے کہ سبزی منڈی  اور  کوہ ِ نور ملز میں جانے والوں میں سے جن چند ایک اور ان کو لے کر جانے والے ڈرائیوروں  میں سے اکثر نے یہیں سے غسل کرنا ہے کیوں کہ یہ اس دیہات کا اکلوتا گرم  حمام ہے ۔

دوسری دکان بالے چاء والے کی  ہے جو ابھی ابھی کھلی ہے۔ اس کا نام اقبال ہے مگر سب اسے صرف بالا چاء والا کے نام سے جانتے ہیں ۔ اس نے یہاں  ایک عرصہ سے چائے  اور مٹھائی کی دکان بنا رکھی ہے ۔منڈی جانے والوں نے جانے سے پہلے یہاں سے چائے  کے ساتھ سستے والے سوکھے کیک  رس یا رس کھا کر ناشتہ کرنا ہوتاہےلیکن بالے کے ہاتھ کی بنی  چائے کی  بھری پیالی ان کے لیے جامِ طہورہ سے کم نہیں ہوتی ۔   

گاؤں میں بجلی یا گیس وغیرہ کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے  اس  لیے بالا  روشنی کی غرض سے اپنے گیس کو صاف کر کے اس میں ہوا بھر  کر جلا رہاہے ۔ دوکانداروں کے پاس روشنی کا واحد ذریعہ یہی گیس ہیں جن میں مٹی کا تیل ڈال کر اور ہوا بھر کر جلایا جاتا ہے ۔ہوٹل والے چائے بنانےاور کھانا پکانے کے لیے مٹی کے تیل والا سٹو و (stove ) استعمال کرتے ہیں ۔  

 اس گاؤں کے ارد گرد  کےتمام گاؤں  لوکل لوگوں (جانگلیوں) کے ہیں        اور یہ میٹھے میں  حلوے اور جلیبوں کے بے حد شوقین ہیں ۔ ان تمام دیہات کے چائے کے (اب ،کیونکہ یہ پہلے چائے  بالکل نہیں پیتے تھے ) شوقین لوگوں  کاٹھکانہ ” بالاچاء والا “ ہے  اور ساتھ میں سبھو  (سرور اعوان )کی  تازہ جلیبیاں   باریک اور خستہ بھی  ۔ بالے کی دکان صبح چار بجے کھلتی اور رات کو گیارہ بجے بند ہونے  والی دو تین دکانوں میں سے ایک ہے۔ پورےاڈے کے دکاندار  چائے یہاں سے منگواتےہیں حالانکہ اب بالے کے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی چائے کے کھوکھے بنالیے ہیں مگر لوگ کہتے ہیں کہ چائے صرف بالے دی    اور جلیبی  سبھو   (سرور ) کی یہی وجہ ہے  کہ ارد گرد سے بھی لوگ صرف چائے پینے یہاں آتےہیں۔

بالا کوئی ایسی ماورائی ہستی یا  بہت پڑھا  لکھا آدمی نہیں ہے  اور نہ دکان یعنی کھوکھا کوئی ایسا شاندار کہ جہاں لوگ بیٹھ کر راحت محسوس کرتے ہوں ۔ عام سی چار پائیاں پڑی ہیں  ۔ عام سے برتن اور پیالیاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں ذائقہ رکھا ہے ۔ آپ اندازہ کریں کہ جب وہ کھانا کھانے یا کسی دیگر ضرورت کےلیے کیتلی چھوڑ دیتاتو لوگ اس کے دوسرے بھائی یا ملازم کےہاتھ سے چائے نہیں پیتے ۔  بالے چاء والے کی دکان اصل میں صرف چاء کی دکان نہیں ہے اسی لیے لوگ اسی طرف بھاگتے ہیں ۔ فیصل آباد جانے والی  واحد سواری سوزوکی ویگنوں کا اڈا بھی پاس ہے  کیوں کہ جڑانوالہ کی طرف چلنے والی ریل کب کی بند ہو چکی ہے اور بسیں پورے دن میں تین یا چار آتی ہیں ۔  ان  ویگن ڈرائیورز کنڈکٹرز کا ریسٹ ایریا بھی یہی دکان ہے ۔ یہ ڈرائیور کنڈکٹر شہر کی تمام خبریں گاؤں والوں کو پہنچانے کی ذمہ دار ی بھی کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اس لیے تازہ خبر ہر آنے والی ویگن کی آمد سے یہاں پہنچتی ہے جو یا تو ڈرائیور کنڈکٹر لاتا ہے  یا کچہریاں گیا ہوا کوئی شخص ۔ دیگر دیہات سے آئے جانگلی اپنے اپنے گاؤں میں جا کر بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ !اج بالے دی چاء پیتی اے ،نالے اوتھوں سنیا اے بھئی شہر اک بندہ قتل ہوگیااے پلس سارے شہراچ بھجی واندی اے ( آج ہم نے بالے کی دکان سے چائے پی  ہے اور شہر میں ایک قتل ہوگیا ہے۔ پولیس شہرمیں بھاگی پھر رہی ہے) ۔ 

یہ گاؤں کا تازہ اخبار ، خبر نامہ اور سوشل  میڈیا یعنی تفریح کی جگہ  بھی ہے ۔

 کچھ عرصہ قبل گاؤں میں  ایک قتل ہوگیا تھا ( جاری)

Saturday, August 15, 2020

یوم ِ آزادی


یوم ِآزادی

پاکستان دنیا میں اپنی الگ پہچان کا حامل وہ  ملک ہے جس کامعرض ِ وجود میں  آنا مثال  کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔انسانوں کا اپنے بسنے کے لیے کسی جگہ کا انتخاب  کرنااور پھر اس کی آزادی کے لیے چومکھی لڑائی لڑکر اپنے مقصد میں کامیاب  ہونا بچوں کا کھیل نہیں  ہے ۔یہ صرف مالک کی  خاص کرم نوازی ، راہبروں کی نیک نیتی اور لوگوں کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ایک آزاد ملک میں زندہ ہیں ۔   آج چودہ اگست ہے ۔یہ وہ دن ہے جس  دن اس مملکت ِ خداداد کو آزادی نصیب ہوئی اور یہ دنیاکے نقشے پر نقش ہو ئی ۔آج یقیناً خوشی کا دن ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔ہم دیکھتےہیں کہ ہر سال    خواتین، بچے بوڑھے اور جوان  اس دن کس قدر جذباتی ہوتے ہیں ۔ اپنے وطن کی محبت میں ہر طرح کی خوشی کا اہتمام کرتےہیں ۔    ترانے بجتے ہیں نیازیں بٹتی ہیں ،رنگا رنگ جھنڈیوں کی بہار اور خوبصورت بیجز سے سینوں کو سجا کر ان کا  پاکستان سے  بے لوث محبت کا اظہار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں  ۔ یہ سلسلہ پہلے یوم آزادی سے ہی چلا آرہاہے۔ لیکن اوپر بیان کیاگیا منظر نامہ  آج سے چند سال پہلے تک کا تھا ۔ آپ حیران توہوں گے کہ کیا آج یہ سب کچھ نہیں ہورہا ،جی جی ہورہاہے بل کہ پہلے سے بڑھ چڑھ کے اوراگر بے حد بڑھ کر بھی کہاجائے تو مضائقہ نہیں ہوگا ۔

یہ ماضی قریب کی بات ہے کہ ہمارے نوجوان سائنسدانوں نے  اس دن کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے  انتہائی معمولی لاگت میں موٹر سائیکل کے سائلنسر نکال کر  جب ا سے بھی اپنا ہمراہی کر لیا  تو صرف ترانوں ، نیازوں اور دعاؤں کے محتاج   یوم ِ آزادی کو گویا زبان مل گئی ۔ صبح سے رات گئے تک کون کافر تلاوت  کر کے یا شہیدوں  کی قربانیوں  پر ان کے لیے دو نفلوں کا ثواب ہی ان کی نذر کرسکنے کا سوچ سکتا تھا ۔خیر یہ دن بھی گذر ہی رہے تھے کہ اقبالؒ مرحوم کے مصرعے نے ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ستاروں سے بھی آگے جانے کی تر غیب دی تو  وہ واقعی ستاروں سے آگے نکلنے کے لیے تن من دھن سے  کوشاں ہی تھے  کہ ہمسائے ملک چین نے ہمارے بھاگوں یہ رنگ برنگے باجے اظہار ِ یکجہتی کےلیے یہاں بھجوا دیے  ۔ چین سے باہمی تجارت سے کوئی دوسرا فائدہ ہوا یا نہیں خدا معلوم مگر ان رنگ برنگے باجوں نے ہمارے اس دن کی خوشیوں کو چوگنا کر دیا ہے ۔ اب تو چودہ اگست گزرنے کے کئی دن بعد تک اپنے کانوں میں ان کی آوازیں سنتے ہیں اور یہ خوشی کئی دن تک چلتی رہتی ہے۔ حرام ہے کہ آپ شہر یا گاؤں  کے کسی کونے کھدرے میں چھپ کر بھی ان کی سمع خراشی سے بچ سکیں ۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ ٹِک ٹَاک  بھی ان کی پرفارمنس کو عوام تک پہنچانے کا عزم لیے ہمراہ ہےیہی وجہ ہے کہ ہر سڑک ،ہرچوک اور ہر گلی آزادی کی خوشی سے پھٹی جارہی ہے۔  

اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یوم ِ آزدی کی خوشی نہیں منانی چاہیے ۔؟

کیوں نہیں یہ دن کوئی عام دن نہیں ہے اس کی خوشی منانا ہم سب پر لازم ہے اور منانی بھی چاہیے۔

توپھر سوال یہ ہے کہ کیا خوشی کے اہتمام کا یہ  واحد طریقہ ہے۔؟

اس  سوال کا جواب اپنے آپ کو خود ہی دے لیجیے گا میری  ایک چھوٹی سی بات سن لینے کے بعد  ۔

چودہ اگست انیس سو سنتالیس کے دن کوبزرگوں کی بتائی ہوئی باتوں اور سنائی ہوئی کہانیوں کی روشنی میں یاد کریں تو کون ہوگا جس کی آنکھ نم نہیں ہوگی اور کلیجہ نہیں پھٹے گا ۔؟ میرے تایا جی جب بھی ملنے آتے ہیں یا ہم ان سے ملنے جاتے ہیں تو میں ان سے ہمیشہ درخواست کرتا ہوتا ہوں کہ جب پاکستان بنا تھا اس وقت کے اور اس سے ذرا پہلے کے واقعات میرے بچوں کو ضرور سنائیں  تاکہ انھیں علم ہو کہ ہم جس ملک میں رہ رہے  ہیں وہ کیسےبنا تھا۔؟تو پھر جب وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم بارڈر سے تھوڑا پیچھے دریائے راوی کے اس پار تھے تو ہمارے قافلے کے بہت سے لوگوں کودشمن انتہائی بے دردی سے قتل کر رہے تھے ۔ میں نے وہاں  پہلے سے موجودنعشوں میں سے ایک کو گھیسٹ کر اپنے اوپر کر لیاتھاجس کاتازہ  خون بہہ بہہ کر میرےچہرے اورجسم کو تر کر رہا تھا ۔ اس دوران میری آنکھیں اپنے خونی رشتوں کے سینوں میں برچھیاں اترتی دیکھ رہی تھیں ۔ میں نے اس وقت آنکھوں کو بند کر لیا تھا  جب میری ایک بہن نے دریا میں چھلانگ لگا دی تھی ۔ ہائے ہائے یہ عالم کہ خوف ، عزیزو اقربا کاغم ، کراہت آمیز مناظر ، بے سرو سامانی اور اس پہ طر ہ یہ کہ علم ہی نہیں کہ منزل کہاں ہے ، وہ  اپنوں کی بے گورو کفن نعشیں آج تک آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوسکیں ۔ پورووال کی گلیاں آج بھی ہاتھوں کی لکیروں میں نظر آتی ہیں ۔ جب وہ یہ سب بتا رہے ہوتے ہیں تو ان کی پرنالہ آنکھیں ، کانپتا جسم اورلرزتے ہاتھ اپنا اپنا عمل پہلے سے دوگنی رفتار میں سر انجام دینے لگتے ہیں تو میں اپنے بچوں کو کہتا ہوتا ہوں  کہ یہ پاکستان بنانے والے ہیں ان سے پوچھیں چودہ اگست کیسے منانا ہے۔ ؟

                                                                                                                                            صمیم صوفی ؔ

 

Thursday, August 13, 2020

کار جہاں

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
   السلام علیکم
         احباب 
اب آپ میری تحریریں بلاگر پر آئینہ خانہ  کے زیرِعنوان پڑھ سکیں گے 
 والسلام 
صمیم صوفی

#خواہشات کا بنڈل BUNDLE OF WISHS #

  خواہشات کا بنڈل انسانی خمیر میں گندھے ہوئے جذبات خواہشات کو جنم دیتےہیں اور انسان انہی خواہشات کی تکمیل کےلیے دنیا کےاس خرابے میں بھاگتا...