Thursday, August 20, 2020

بالا چاء والا

  

بالا چاء والا

ساٹھ کی دہائی میں سیلاب کاپانی جڑانوالہ کے  کئی نواحی دیہاتوں تک آ جاتا ہے جن میں سے ایک سیم زدہ گاؤں کے لوگ  ،جو پہلے ہندوستان سے اور اب اس گاؤں سے ،اپنا سامان اٹھا کر لائل پور  (اب  فیصل آباد) سے  تقریباً دس میل ( پندرہ کلو میڑ ) کے فاصلے پر سرکاری  نا قا بل ِ کاشت زمین پر بس جاتے ہیں ۔  یہاں سے ایک ایک رویہ  سڑک گذرتی ہے جولائل پور کو اس کی تحصیل جڑانوالہ سے ملاتی ہے  ۔ دوسری وہ جرنیلی کچی سڑک  ہے جو افغانستان اور دیگر ممالک سے آنے والے حملہ آور  لاہور اور دہلی پر  قبضہ کرنے کے استعمال کیا کرتے تھے ۔ یہ کچی سڑک ساہی وال کی جانب  جاتی اور پختہ سڑک کو یہاں سے  کراس کرتی ہوئی گذرتی ہے  ۔بھگت سنگھ کا گاؤں (بنگے )یہاں سے پانچ میل دور ہے  ۔

 اس نئی آبادی سے   چار پانچ  ایکڑ دور سو ڈیڑھ سو گھرانوں پر مشتمل  ایک اور  آبادی ہے جو پہلے سے ہے ۔ اس آبادی میں  وہ لوگ رہتے  ہیں جنھوں نے ساندل بار ( دریائے راوی اور چناب کا درمیانی علاقہ ) کی زمینوں کوقابل ِ کاشت بنایا اور اب یہ انہی الاٹ شدہ زمینوں پر کھیتی باڑی  کرتے ہیں ۔   یہ  لوگ ہجرت کرکے آنے  والوں کو ”مہاجر ، پناہی اور پناہ گیر“ کہتے ہیں جبکہ  مہاجر انھیں ”جانگلی“ یعنی جنگلی کے نام سے پکارتے ہیں کیوں کہ ان کی پسندیدہ خوراک  صبح کو چاٹی کی کھٹی لسی معہ مکھن ،دوپہر کو  تنور کی موٹی روٹی  دیسی گھی سے چپڑی ہوئی   جو سرخ مرچ ڈلی کھٹی لسی    کے ساتھ کھاتے ہیں ۔ رات کو صرف دودھ  پیتے ہیں  ۔ کبھی کبھی گڑ والےچاول اور  گوشت تب جب کوئی تقریب ہو یا اگر کوئی بچھڑا وغیرہ  حلال ہوجائے ۔ سبزی ،ساگ پات اور دالوں سے مکمل پرہیز کی صورت ہے  ۔ ہنڈیاچولہے پر چڑھانے کا رواج ہی نہیں تھا۔

اسی کی دہائی

اسی کی دہائی میں یہاں  کی آبادی پانچ سے چھ سو نفوس تک جاپہنچی ہے ۔ کم و بیش بیس پچیس دکانیں بن چکی ہیں۔ ساتھ والی آبادی کے لوگ اب سبزیاں اور کچھ دیگر اقسام کے کھانے مثلاً پلاؤ ، ابلےچاول اور  زردہ وغیرہ کھانے لگ پڑے ہیں ۔  یہ اسی وقت کا منظر ہے ۔ فجر کی اذان میں ابھی کچھ وقت باقی ہے ۔  شدید سردی کی وجہ سے لوگ لحافوں میں  دبکے گہری نیند سوئے ہوئے ہیں۔ اس وقت  اڈے پر موجود  خورد و نوش اور دیگر مختلف دکانوں میں سے صرف دو  دکانیں تھوڑی دیر قبل  کھلی ہیں جن میں ایک نہانے کا گرم حمام ہے ۔ اس حمام کا مالک فیض اب اپنے لوکل گیزر میں لکڑیاں جلا کر پانی گرم کررہا ہے اور ساتھ ساتھ آگ تاپ رہا ہے کیوں کہ اس نے پانی والی ٹینکی  ن آتے ہی   ہاتھ والے نلکے سے بھر لی تھی ۔ اسے معلوم ہے کہ سبزی منڈی  اور  کوہ ِ نور ملز میں جانے والوں میں سے جن چند ایک اور ان کو لے کر جانے والے ڈرائیوروں  میں سے اکثر نے یہیں سے غسل کرنا ہے کیوں کہ یہ اس دیہات کا اکلوتا گرم  حمام ہے ۔

دوسری دکان بالے چاء والے کی  ہے جو ابھی ابھی کھلی ہے۔ اس کا نام اقبال ہے مگر سب اسے صرف بالا چاء والا کے نام سے جانتے ہیں ۔ اس نے یہاں  ایک عرصہ سے چائے  اور مٹھائی کی دکان بنا رکھی ہے ۔منڈی جانے والوں نے جانے سے پہلے یہاں سے چائے  کے ساتھ سستے والے سوکھے کیک  رس یا رس کھا کر ناشتہ کرنا ہوتاہےلیکن بالے کے ہاتھ کی بنی  چائے کی  بھری پیالی ان کے لیے جامِ طہورہ سے کم نہیں ہوتی ۔   

گاؤں میں بجلی یا گیس وغیرہ کی کوئی سہولت میسر نہیں ہے  اس  لیے بالا  روشنی کی غرض سے اپنے گیس کو صاف کر کے اس میں ہوا بھر  کر جلا رہاہے ۔ دوکانداروں کے پاس روشنی کا واحد ذریعہ یہی گیس ہیں جن میں مٹی کا تیل ڈال کر اور ہوا بھر کر جلایا جاتا ہے ۔ہوٹل والے چائے بنانےاور کھانا پکانے کے لیے مٹی کے تیل والا سٹو و (stove ) استعمال کرتے ہیں ۔  

 اس گاؤں کے ارد گرد  کےتمام گاؤں  لوکل لوگوں (جانگلیوں) کے ہیں        اور یہ میٹھے میں  حلوے اور جلیبوں کے بے حد شوقین ہیں ۔ ان تمام دیہات کے چائے کے (اب ،کیونکہ یہ پہلے چائے  بالکل نہیں پیتے تھے ) شوقین لوگوں  کاٹھکانہ ” بالاچاء والا “ ہے  اور ساتھ میں سبھو  (سرور اعوان )کی  تازہ جلیبیاں   باریک اور خستہ بھی  ۔ بالے کی دکان صبح چار بجے کھلتی اور رات کو گیارہ بجے بند ہونے  والی دو تین دکانوں میں سے ایک ہے۔ پورےاڈے کے دکاندار  چائے یہاں سے منگواتےہیں حالانکہ اب بالے کے بڑے بھائی کے ساتھ ساتھ کچھ اور لوگوں نے بھی چائے کے کھوکھے بنالیے ہیں مگر لوگ کہتے ہیں کہ چائے صرف بالے دی    اور جلیبی  سبھو   (سرور ) کی یہی وجہ ہے  کہ ارد گرد سے بھی لوگ صرف چائے پینے یہاں آتےہیں۔

بالا کوئی ایسی ماورائی ہستی یا  بہت پڑھا  لکھا آدمی نہیں ہے  اور نہ دکان یعنی کھوکھا کوئی ایسا شاندار کہ جہاں لوگ بیٹھ کر راحت محسوس کرتے ہوں ۔ عام سی چار پائیاں پڑی ہیں  ۔ عام سے برتن اور پیالیاں ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں ذائقہ رکھا ہے ۔ آپ اندازہ کریں کہ جب وہ کھانا کھانے یا کسی دیگر ضرورت کےلیے کیتلی چھوڑ دیتاتو لوگ اس کے دوسرے بھائی یا ملازم کےہاتھ سے چائے نہیں پیتے ۔  بالے چاء والے کی دکان اصل میں صرف چاء کی دکان نہیں ہے اسی لیے لوگ اسی طرف بھاگتے ہیں ۔ فیصل آباد جانے والی  واحد سواری سوزوکی ویگنوں کا اڈا بھی پاس ہے  کیوں کہ جڑانوالہ کی طرف چلنے والی ریل کب کی بند ہو چکی ہے اور بسیں پورے دن میں تین یا چار آتی ہیں ۔  ان  ویگن ڈرائیورز کنڈکٹرز کا ریسٹ ایریا بھی یہی دکان ہے ۔ یہ ڈرائیور کنڈکٹر شہر کی تمام خبریں گاؤں والوں کو پہنچانے کی ذمہ دار ی بھی کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں اس لیے تازہ خبر ہر آنے والی ویگن کی آمد سے یہاں پہنچتی ہے جو یا تو ڈرائیور کنڈکٹر لاتا ہے  یا کچہریاں گیا ہوا کوئی شخص ۔ دیگر دیہات سے آئے جانگلی اپنے اپنے گاؤں میں جا کر بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ !اج بالے دی چاء پیتی اے ،نالے اوتھوں سنیا اے بھئی شہر اک بندہ قتل ہوگیااے پلس سارے شہراچ بھجی واندی اے ( آج ہم نے بالے کی دکان سے چائے پی  ہے اور شہر میں ایک قتل ہوگیا ہے۔ پولیس شہرمیں بھاگی پھر رہی ہے) ۔ 

یہ گاؤں کا تازہ اخبار ، خبر نامہ اور سوشل  میڈیا یعنی تفریح کی جگہ  بھی ہے ۔

 کچھ عرصہ قبل گاؤں میں  ایک قتل ہوگیا تھا ( جاری)

No comments:

Post a Comment

#خواہشات کا بنڈل BUNDLE OF WISHS #

  خواہشات کا بنڈل انسانی خمیر میں گندھے ہوئے جذبات خواہشات کو جنم دیتےہیں اور انسان انہی خواہشات کی تکمیل کےلیے دنیا کےاس خرابے میں بھاگتا...