کچھ عرصہ قبل گاؤں میں
ایک قتل ہوگیا تھا
بالے کی دکان سب لوگوں کا مکمل سوشل میڈیا ہے ۔ یہاں ہر طرح کی خبر اور گپ شپ میسر ہے ۔ گاؤں میں کو ئی میلہ ہے تو اس میں گانے والے ، نقلیے ،ڈھول والے اور میلے میں دور دراز سے شرکت کرنے والوں کا پہلا ٹھکانہ بھی یہی دکان ۔منھ ہاتھ نلکے پر دھویا چائے شائے پی اور اگلی منزل کے لیے روانہ ۔ گاؤں کے سب لوگ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے ہی نہیں بل کہ اچھے تعلقات ہیں ۔ گلی میں لڑکیاں لڑکے اکٹھے گڈی گڈے کی شادی میں شریک ہیں ۔چودہ پندرہ سال سے بڑے لڑکے شام کو واحد پرائمری سکول کےگراؤنڈ میں کھیلتےہیں ۔ گاؤں کا کوئی بھی بڑا کسی بھی بچے کو نہ صرف ڈانٹنے بل کہ ایک دوچپتیں لگانے کے پورے حقوق کا حامل ہے ۔ گاؤں میں کسی کے پاس کار نہیں ہے ۔ سائیکل ہی سب سے محبوب سواری ہےمگر یہ بھی سب کے پاس نہیں ہے شہر جانے کے لیے تانگے کی سہولت بھی موجود ہے ۔
چند سال پہلے یہاں ایک جھگڑا ہو گیا تھا اور اس میں ایک قتل ہوگیا تھا
۔قاتل گرفتار ہوگئے اور ان کا خاندان یہاں سے کوچ کر گیا۔ اس واقعے کو کئی سال گذر
گئے ہیں مگر آج بھی اس کا ذکر بڑے کرب اور دکھ کے ساتھ ہوتاہے ۔ بات کرنے والا خود
حیرانی کی تصویر بنا بات کر رہا ہوتاہے کہ جیسے یہاں انسان نہیں فرشتے بستے ہوں کہ
وہ کوئی ایساقدم اٹھا ہی نہیں سکتے تھے تو یہ کیسے ہوگیا ۔ ایک جمعہ کو مولوی صاحب
نے اپنے بیان میں فرمایا کہ بری بات کا ذکر بار بار نہیں کرتے تو اب لوگ اس
کا ذکر کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں ۔
مولوی صاحب بھی کمال ہیں سارا دن بڑھئی کا کام کرتے ہیں اور
نماز کے وقت امامت کرواتے ہیں ۔فقط پرائمری پاس ،کسی مدرسے سے باقاعدہ دینی علم
حاصل نہیں کیا ۔ گھر میں موجود عمومی کتب سے جو میسر ہو جمعہ کے خطبے میں سادہ
انداز میں بیان کردیتے ہیں ۔ کسی تفرقہ بندی کا ذکر نہیں کسی کے خلاف تقریر نہیں ۔
دینی مسائل پر بیان ہوتا ہے۔ کوئی تنخواہ نہیں لگی ہوئی ۔ مسجد کے صحن میں پڑی
نوبت ( یک طرفہ ڈھول ) جو ضروری اعلان اور ماہِ رمضان میں سحری افطاری کے وقت کی
نشان دہی کے لیے استعمال ہوتی ہے کا چمڑاپھٹ گیا ہے مولوی صاحب جیب سے لے آئے ہیں
کسی کو نہیں بتایا کتنے کا آیا ہے۔
گاؤں کا ہر گھر ان
کا اپنا
گھر ہے ۔ ہر شخص ان کا معترف ہےاور سب ان کی امامت میں نماز پڑھتےہیں۔
پرائمری سکول تو
یہاں کے ہیڈ ماسٹر لعل محمد صاحب کا نام ہے ۔ وہ
اکیلے پورا سکول ہیں ۔ ہر بچے اور بڑے کی زبان پر لعل صاحب ہے ۔ لعل محمد
صاحب جے ۔وی (Junior Vernaculars ) ماسٹرہیں ۔ پڑھانے کا انداز
کمال ، سختی انتہائی ، پیار حد سے زیادہ کسی کو ٹیوشن کا علم نہیں پانچویں کا بورڈ
کا امتحان آگیاہے تو پانچویں جماعت کو چھٹی کے بعد گھر سے کھانا کھا کر دوبارہ آنا
ہے اور شام گئے تک پڑھناہے ۔ سکول میں صرف ایک کرسی ہے باقی اساتذہ شاگردوں کی
لائی ہوئی چارپائیوں پر بیٹھ کر پڑھا رہے ہیں ۔ حنیف صاحب تہبند باندھے پڑھانے کے ساتھ حقہ بھی پی رہے ہیں ۔ بچے گھر سے لائی ہوئی چینی والی بوریاں بچھائے اپنےاپنے
بستے اور تختیاں سامنے رکھے بیٹھے ہیں کچھ
پڑھ رہے ہیں اور کچھ شرارتوں میں مصروف ۔سب نے سیاہ رنگ کے ملیشا کی شلوار قمیض
پہنی ہوئی ہے اور ساتھ اسی کپڑے کا سلا
بستہ۔ کچھ بستے جدید ہیں کہ ان کو ایک جیب
لگی ہوئی ہے۔
گاؤں کے ہر گھر میں مرغیاں ، بکریاں اور بھینسیں حسب ِ توفیق موجود ہیں ۔ ابھی تک کسی گھر میں لیٹرین نہیں بنی بل کہ کسی کو اس کا زیادہ علم ہی نہیں ہے۔ ایک دو سال سے صرف چند بچوں کو عید پر پینٹ شرٹ پہنے دیکھا گیاہے۔ رات ہو یا دن ،صبح ہو یا شام سب لوگ پر سکون نظر آتے ہیں حالانکہ محنت مزدوری
کرتے ہیں کسی کے پاس دولت کے انبار نہیں ہیں مگر اپنے کام سے کام ،ہنس مکھ چہرے
اور روز بار بار ملنے کے باوجود ایک دوسرے کو مل کر ایک دم خوش جیسے بڑی دیر بعد
دیکھا ہو۔ اپنی باتیں گھر کی ،بچوں کی اور کئی مشورے کھڑے کھڑے ہی کر لیتے ہیں ۔ یہاں تک کہ دور پار
سے آنے والے ایک دوسرے کے رشتہ دار بھی یہاں کے بہت سے لوگوں کو جانتےہیں ۔ہمسائے
تو خصوصاًملنے آتے ہیں ۔ مہمان بھی آتے ہیں گھر والوں کے ساتھ ہمسائیوں کا حال چال
بھی دریافت کرتے ہیں۔ یوں معلوم ہوتاہے
یہ پورا گاؤں ایک خاندان ہے۔
نوے کی دہائی
بالے کی دکان اڈے کا مرکز ہے اس لیے گذرنے والی بسیں بھی اسی دکان کے سامنے رکتی ہیں ۔ٹیکنیکل ہائی سکول ،مسلم ہائی سکول اور اواگت ہائی سکول میں داخل ہونے والے بچے یہیں سے سوار ہوتے اور اترتے ہیں ۔ اب بالے نے نوائے وقت اور جنگ اخبار بھی لگوا لیے ہیں جس سے خبر وں کی تعداد اورترسیل بڑھ گئی ہے ۔ اخبارکے چاہنے والوں نے دکان کی آمدنی بھی بڑھا دی ہے ۔ اب سارا دن یہاں پہلے کی نسبت رش نظرآتا ہے ۔ اب ملیشا پہنے بچوں کے ساتھ کئی خاکی پتلون اور سفید شرٹ میں بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ ٹیکنیکل ہائی سکول کے طلبہ ہیں جن کے والدین اور یہ وہاں داخلہ ملنے پر فخر محسوس کرتے ہیں کیوں کہ وہاں چھٹی جماعت سے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جاتا ہے ۔ گاؤں میں دکانیں بڑھ رہی ہیں اب بالے کے سامنے ماسٹر طالب اور ان کے بھائی ماسٹر انور نے کریانے کی نسبتاً بڑی دکان بنا لی ہے ساتھ ہی بابے ڈوگر کی کریانے دکان ہے۔ایک کھانے کا ہوٹل بھی بن گیاہے ۔ بابا خوشیا اعوان بیٹری والا ٹیلی ویژن لے آیا ہے اور اب کرکٹ نے اس جگہ پاؤں رکھ لیاہے ۔ شہر سے بیٹ وغیرہ لائے گئے ہیں ۔ چھوٹوں کے ساتھ بڑے بھی اس نئے کھیل کو دیکھنے جاتے ہیں ۔ باہر سے آنے والوں کی تعداد دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے ۔ اب تو یہاں نزدیک گاؤں کے کئی لوگوں نے دکانیں بنانا شروع کردی ہیں ۔ مسجد میں بیٹری لگا کر ایک لاؤڈ سپیکر بھی لگادیا گیا ہے ۔ مسجد کو دوبارہ تعمیر کرنے کا پروگرام ہے ۔مستری اسحاق( یہاں کی اکلوتی چکی کے مالک ) کی نمازیوں اورمعماروں سے مشاورت جاری ہے ۔ وہ تعمیراتی کام کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔گاؤں کے لوگوں کو مسجد کی تعمیر کےلیے درکار رقم کا بندوبست کرنا مشکل ہورہا ہےکیونکہ سب محنت مزدوری کرنے والے لوگ ہیں کوئی بھی صاحب ِ حیثیت نہیں کہ اتنی رقم دے سکے۔ کسی نے مشورہ دیاہے کہ اب لاؤڈ سپیکر تو ہے ہی تو کیوں نہ اس کے ذریعے چندہ اکٹھا کیاجائے ۔ اب ہر جمعرات کو چندہ اکٹھا کرنے پر اتفاق ہوگیاہےاور ہر جمعرات کو صبح شام چندہ اکٹھا کرنے کی غرض سےاسماعیل نامی شخص کو معمور کیا گیاہے۔
لائل پور جڑانوالہ روڈ پر قدرے ٹریفک بڑھ رہی ہے اور بسوں کی تعداد میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو رہا ہےاس بات کو مدِ نظر رکھتےہوئے مسجد والا سپیکر اڈے پر لگا دیا گیا ہے ۔ پہلےتو صرف گاؤں والوں سےچندہ مانگا جاتا تھا مگر اب آنے جانے والی بسوں کے مسافروں سے بھی چندہ دینےکی اپیل کی جاتی ہے۔ اسماعیل بڑی مستعدی سے اپنی ڈیو ٹی سر انجام دے رہا ہے۔ اور تنخواہ لے رہا ہے۔
انیس سو چھیاسی کی ایک صبح اس گاؤں والوں کےلیے خوش قسمتی کا سورج لے کر طوع ہوئی ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ اڈے پر وقفے وقفے پر بجلی کے کھمبے پڑے ہیں ۔ اس سے پہلے سنٹرل جیل کی بتیاں دیکھ کر امید لگتی کہ یہ نزدیک تر ہے لہذا یہیں سے بجلی لانے کا بندوبست ہو سکتاہے ۔ بجلی کیا لگی دنیا ہی روشن ہوگئی ۔ نیشنل بنک کی برانچ بھی کھلنے لگی ہے ۔ سرکار نے ایک کھمبالگا کر ایک ٹیلی فون لگا دیاہے پورے گاؤں کے پاس ایک ٹیلی فون نے ہر گھر کو خوشیوں سے بھر دیا ہے۔ اپنے اپنے رشتہ داروں کو نمبر 04125974 بھجوایا جارہاہے ۔ جب کسی کا فون آتاہے تو سپیکر میں اعلان کیا جاتاہے کہ فلاں کا فون ہے آ کر سن لے اس سے دو روپے بھی لیے جاتے ہیں جو بعد میں بڑھ کر پانچ ہوگئے ۔
دودھ سے کریم الگ کرنے والی دو تین ڈیریاں بھی لگ گئیں ہیں ۔چاچے بشیرگجر کی ڈیری پرکریم نکوانے اور کریم لینے والوں کا رش پڑا رہتاہے ۔
بالے کے ملازم بڑھ رہے ہیں ۔ سبھو جلیبیاں والے کابڑا بیٹا ذلفی بھی اپنے باپ کا ہاتھ بٹانے لگ پڑا ہے۔ کپڑا بننے والی کچھ فیکٹریوں کا اضافہ ہوگیا ہے کچھ اور لگ رہی ہیں ۔ روزی روٹی کمانے کے مواقع بڑھتے جارہے ہیں ۔ ملک ولی محمد جو کسی انشورنس کمپنی میں ملازم ہو گیا ہے نے ایک ویسپا سکوٹر بھی لے لیا ہے ۔ کئی دنوں تک سب اسے مبارک باد دینے جاتے رہے ہیں۔ غرض دوسری نسل پراون چڑھ چکی ہے جس سے گھروں میں آمدنی کے ذرائع بڑھنے سے اور بجلی کی آمد نے آسانیاں پیدا کرنا شروع کردی ہیں مگر اب پہلے کی نسبت سب تھوڑے مصروف ہوتے جارہے ہیں۔ بالے کی دکان پر رش زیادہ ہے مگر آئی چلائی ہے ۔ جاتے جاتے ایک دوسرے سے دعا سلام ہورہی ہے۔ بھائی میں لیٹ ہورہا ہوں فیکٹری کاگیٹ بند ہو جاتاہےپھر ملتے ہیں ۔ کجا گھنٹوں باتیں ہی باتیں اور خوش و خرم بھی ۔
بیسویں صدی کا آخری عشرہ
ان دس سالوں نے پورے علاقے کی ہیت کو بدلنے میں بڑا کردار ادا کیاہے۔ قومی و صوبائی انتخابات نے بہت سی نئی چیزوں کو متعارف کروایا ہے۔ ان کی وجہ سے برادری ازم کا بھوت بھی نظر آنے لگ پڑا ہے۔ کون کس پارٹی کا سپورٹر ہے۔ لوگوں میں ایک تقسیم نظر آنے لگ پڑی ہے۔
ترقی کا کام بھی جاری ہے۔ ٹیلی فون ایکسچینج لگ گئی ہے۔




No comments:
Post a Comment