یوم ِآزادیپاکستان دنیا میں اپنی الگ پہچان کا حامل وہ ملک ہے جس کامعرض ِ وجود میں آنا مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔انسانوں کا اپنے بسنے کے لیے کسی جگہ کا انتخاب کرنااور پھر اس کی آزادی کے لیے چومکھی لڑائی لڑکر اپنے مقصد میں کامیاب ہونا بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔یہ صرف مالک کی خاص کرم نوازی ، راہبروں کی نیک نیتی اور لوگوں کی بے لوث قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ایک آزاد ملک میں زندہ ہیں ۔ آج چودہ اگست ہے ۔یہ وہ دن ہے جس دن اس مملکت ِ خداداد کو آزادی نصیب ہوئی اور یہ دنیاکے نقشے پر نقش ہو ئی ۔آج یقیناً خوشی کا دن ہے اور ہونا بھی چاہیے ۔ہم دیکھتےہیں کہ ہر سال خواتین، بچے بوڑھے اور جوان اس دن کس قدر جذباتی ہوتے ہیں ۔ اپنے وطن کی محبت میں ہر طرح کی خوشی کا اہتمام کرتےہیں ۔ ترانے بجتے ہیں نیازیں بٹتی ہیں ،رنگا رنگ جھنڈیوں کی بہار اور خوبصورت بیجز سے سینوں کو سجا کر ان کا پاکستان سے بے لوث محبت کا اظہار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ۔ یہ سلسلہ پہلے یوم آزادی سے ہی چلا آرہاہے۔ لیکن اوپر بیان کیاگیا منظر نامہ آج سے چند سال پہلے تک کا تھا ۔ آپ حیران توہوں گے کہ کیا آج یہ سب کچھ نہیں ہورہا ،جی جی ہورہاہے بل کہ پہلے سے بڑھ چڑھ کے اوراگر بے حد بڑھ کر بھی کہاجائے تو مضائقہ نہیں ہوگا ۔
یہ ماضی قریب کی بات ہے کہ ہمارے نوجوان سائنسدانوں نے اس دن کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے انتہائی معمولی لاگت میں موٹر سائیکل کے سائلنسر نکال کر جب ا سے بھی اپنا ہمراہی کر لیا تو صرف ترانوں ، نیازوں اور دعاؤں کے محتاج یوم ِ آزادی کو گویا زبان مل گئی ۔ صبح سے رات گئے تک کون کافر تلاوت کر کے یا شہیدوں کی قربانیوں پر ان کے لیے دو نفلوں کا ثواب ہی ان کی نذر کرسکنے کا سوچ سکتا تھا ۔خیر یہ دن بھی گذر ہی رہے تھے کہ اقبالؒ مرحوم کے مصرعے نے ہمارے بچوں اور نوجوانوں کو ستاروں سے بھی آگے جانے کی تر غیب دی تو وہ واقعی ستاروں سے آگے نکلنے کے لیے تن من دھن سے کوشاں ہی تھے کہ ہمسائے ملک چین نے ہمارے بھاگوں یہ رنگ برنگے باجے اظہار ِ یکجہتی کےلیے یہاں بھجوا دیے ۔ چین سے باہمی تجارت سے کوئی دوسرا فائدہ ہوا یا نہیں خدا معلوم مگر ان رنگ برنگے باجوں نے ہمارے اس دن کی خوشیوں کو چوگنا کر دیا ہے ۔ اب تو چودہ اگست گزرنے کے کئی دن بعد تک اپنے کانوں میں ان کی آوازیں سنتے ہیں اور یہ خوشی کئی دن تک چلتی رہتی ہے۔ حرام ہے کہ آپ شہر یا گاؤں کے کسی کونے کھدرے میں چھپ کر بھی ان کی سمع خراشی سے بچ سکیں ۔سونے پہ سہاگہ یہ کہ ٹِک ٹَاک بھی ان کی پرفارمنس کو عوام تک پہنچانے کا عزم لیے ہمراہ ہےیہی وجہ ہے کہ ہر سڑک ،ہرچوک اور ہر گلی آزادی کی خوشی سے پھٹی جارہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یوم ِ آزدی کی خوشی نہیں منانی چاہیے ۔؟
کیوں نہیں یہ دن کوئی عام دن نہیں ہے اس کی خوشی منانا ہم سب پر لازم ہے اور منانی بھی چاہیے۔
توپھر سوال یہ ہے کہ کیا خوشی کے اہتمام کا یہ واحد طریقہ ہے۔؟
اس سوال کا جواب اپنے آپ کو خود ہی دے لیجیے گا میری ایک چھوٹی سی بات سن لینے کے بعد ۔
چودہ اگست انیس سو سنتالیس کے دن کوبزرگوں کی بتائی ہوئی باتوں اور سنائی ہوئی کہانیوں کی روشنی میں یاد کریں تو کون ہوگا جس کی آنکھ نم نہیں ہوگی اور کلیجہ نہیں پھٹے گا ۔؟ میرے تایا جی جب بھی ملنے آتے ہیں یا ہم ان سے ملنے جاتے ہیں تو میں ان سے ہمیشہ درخواست کرتا ہوتا ہوں کہ جب پاکستان بنا تھا اس وقت کے اور اس سے ذرا پہلے کے واقعات میرے بچوں کو ضرور سنائیں تاکہ انھیں علم ہو کہ ہم جس ملک میں رہ رہے ہیں وہ کیسےبنا تھا۔؟تو پھر جب وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم بارڈر سے تھوڑا پیچھے دریائے راوی کے اس پار تھے تو ہمارے قافلے کے بہت سے لوگوں کودشمن انتہائی بے دردی سے قتل کر رہے تھے ۔ میں نے وہاں پہلے سے موجودنعشوں میں سے ایک کو گھیسٹ کر اپنے اوپر کر لیاتھاجس کاتازہ خون بہہ بہہ کر میرےچہرے اورجسم کو تر کر رہا تھا ۔ اس دوران میری آنکھیں اپنے خونی رشتوں کے سینوں میں برچھیاں اترتی دیکھ رہی تھیں ۔ میں نے اس وقت آنکھوں کو بند کر لیا تھا جب میری ایک بہن نے دریا میں چھلانگ لگا دی تھی ۔ ہائے ہائے یہ عالم کہ خوف ، عزیزو اقربا کاغم ، کراہت آمیز مناظر ، بے سرو سامانی اور اس پہ طر ہ یہ کہ علم ہی نہیں کہ منزل کہاں ہے ، وہ اپنوں کی بے گورو کفن نعشیں آج تک آنکھوں سے اوجھل نہیں ہوسکیں ۔ پورووال کی گلیاں آج بھی ہاتھوں کی لکیروں میں نظر آتی ہیں ۔ جب وہ یہ سب بتا رہے ہوتے ہیں تو ان کی پرنالہ آنکھیں ، کانپتا جسم اورلرزتے ہاتھ اپنا اپنا عمل پہلے سے دوگنی رفتار میں سر انجام دینے لگتے ہیں تو میں اپنے بچوں کو کہتا ہوتا ہوں کہ یہ پاکستان بنانے والے ہیں ان سے پوچھیں چودہ اگست کیسے منانا ہے۔ ؟
صمیم صوفی ؔ





کمال..... 🌹🌹👍👍💕💕💕
ReplyDelete☝🏼👍🏼👌🏼👌🏼👌🏼👌🏼👌🏼💓💓
ReplyDeleteاچھا بہت اچھا
ReplyDelete🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
اعلیٰ
ReplyDeleteبہت خوب بھائی سدا خوش رہیں
ReplyDelete